| تری نگاہ میں ایسی کشش کہاں سے ہے |
| کہیں پہ دل کو تعلّق رہا بتاں سے ہے |
| لبوں پہ تیرے تبسّم ہے آنکھ مے خانہ |
| یہ حسنِ ناز تو اندازِ دلبراں سے ہے |
| شبِ فراق میں بھی چاندنی اترتی دیکھ |
| خیالِ یار کی خوشبو بھی آسماں سے ہے |
| ہمیں تو عشق نے بخشا ہے بے خودی میں سرور |
| یہ کیفِ دل یہ جنوں کس کے فیضِ جاں سے ہے |
| نہ پوچھ حالِ دلِ زار پوچھنا ہو اگر |
| چمن کے چہرے کو پڑھ کیا لکھا خزاں سے ہے |
| وہ ایک بار جو دیکھے تو دل ٹھہر جائے |
| یہ معجزہ بھی کسی چشمِ مہرباں سے ہے |
| ہمیں خبر ہے کہ دنیا کہے جنوں اس کو |
| مگر یہ درد تو اک جذبِ عاشقاں سے ہے |
| وفا کی بات نہ کر ہم نے آزما دیکھا |
| وفا کا لطف بھی آخر تو امتحاں سے ہے |
| ترے قریب جو آئے تو خود سے دور ہوئے |
| یہ عشق بھی تو عجب عالمِ گماں سے ہے |
| ہوا اسیرِ محبت ہے کیا کرے طارِق |
| یہ دل تو صرف ترے عشق کے جہاں سے ہے |
معلومات