ساون میں کسان ہر گھڑی ہے تیار
سامان لئے رہے ہمیشہ وہ وار
جب کھیت چلے، ہوا کبھی ہو برسات
طوفان گھٹائیں اور بجلی کی مار
یہ تیز و تند کس طرح پر تکلیف
اندازہ مگر لگے نہایت دشوار
آسان کہاں کڑی مشقت، محنت
لو گرم بہت وہی دہکتی انگار
آرام حرام کر لگی رہتی دھن
سنسار سکھی چلے نہ کوئی بیگار
سنگین جو مسئلہ یہی ہو اس وقت
محسوس ہمیں چبھن نہیں تو افکار
انجان یہاں نگر کیوں ناصر کچھ تاڑ
لاچار غریب لوگ ہیں بے گھر دار

0
37