خدا کی ذات پہ کر اکتفا سدا کے لیے
ذرا سا حوصلہ رکھ ہاتھ اٹھا دعا کے لیے
اسی نے تھام کے چھوڑا ہے بیچ رستے میں
وہ شہر بھر میں جو مشہور تھا وفا کے لیے
پکارتی ہے مسیحا کو جلتی پیشانی
وہ ایک ہاتھ نہیں مل رہا شفا کے لیے
اسے بتاؤ مجھے دشت راس آ گیا ہے
جو مجھ کو چھوڑ گیا تھا یہاں سزا کے لیے
کہاں سے لاؤں نیا دل مجھے بتائے کوئی
کہاں سے لاؤں دوا دردِ لا دوا کے لیے
اسی سے گھر میں مرے بددعائیں آنے لگیں
جو کھڑکی کمرے میں بنوائی تھی ہوا کے لیے

0
56