وہ ملالِ حرفِ ہوس نہ تھا، مری خامشی کا وہ راز تھا
جو بکھر گیا ہے فضاؤں میں، وہی روح کا مری ساز تھا
کئی خوابِ تازہ اجڑ گئے، کئی عکسِ مہر و مہ ڈھل گئے
وہ جو ایک لمحۂِ دید تھا، وہی بخت کا مری ناز تھا
سرِ بزم ہم نے تو عمر بھر، کیا ضبطِ غم کا ہی تذکرہ
جسے تم نے شورِ فغاں کہا، مری آہ کا وہ گداز تھا
ترے شہرِ سنگ میں گم ہوئے، مرے آرزو کے تمام رنگ
ترا عکس جس میں دکھائی دے، وہی آئنہ تو مجاز تھا
تری اک نظر کی جو لو لگی تو یہ خاک مٹی سے سونا تھی
تری آستاں کی گدائی ہی مرے منصبی کا وہ ساز تھا
وہ جو زخمِ دل تھا ہرا ہرا، وہ جو درد تھا مری زیست کا
وہی بندگی کا نشان تھا، وہی بندگی کا جو راز تھا
جسے جاں نثار کیا گیا، وہ کوئی تو یادِ قدیم تھی
جسے عادلؔ اب کے بھلا دیا، وہ خیالِ بندہ نواز تھا

0
4