ہیں اسمِ محمد میں راحت کے ساماں
ہے ویران دل بھی اسی سے گلستاں
بلائے ہیں جاتے درِ جاں پہ زائر
مدینے جو پہنچے ہیں قسمت پہ نازاں
حسیں سب سے گہنہ محبت ہے اُن کی
بنے جس سے مومن جو تھا اک مسلماں
ورودِ نبی سے منور ہے ہستی
کرے یاد اُن کی دلوں کو فروزاں
ہے سیرت نبی کی سدا مشعلِ راہ
ہوئے جس سے رستے تمدن کے آساں
نہ ادراک جائے سوئے لامکاں تک
سرِ عرشِ اعظم ہیں مولا کے مہماں
مدینے پہنچ کر کریں ناز نوری
مدینے میں آ کر یہ سنتے ہیں قرآں
منور مدینہ دلوں کا سکوں ہے
اے محمود ساری یہ وادی ہے تاباں

2
21
خلاصہ
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ، عشقِ مصطفیٰ ﷺ، عظمتِ اسمِ محمد ﷺ اور مدینۂ منورہ کی روحانی برکتوں کا حسین بیان ہے۔ شاعر نہایت دل نشیں انداز میں واضح کرتا ہے کہ اسمِ محمد ﷺ دلوں کے لیے راحت و سکون کا سرچشمہ ہے اور محبتِ رسول ﷺ ویران دلوں کو ایمان و نور سے منور کر دیتی ہے۔ کلام میں مدینہ کی حاضری کو سعادتِ عظمیٰ، سیرتِ نبوی ﷺ کو انسانیت کے لیے دائمی مشعلِ راہ، اور معراجِ نبوی ﷺ کے بے مثال مقام کو عقیدت و احترام کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اختتامی اشعار مدینۂ منورہ کو دلوں کا سکون اور ایمان کی روشنی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ نعت محبتِ رسول ﷺ، شوقِ مدینہ اور اتباعِ سیرتِ نبوی ﷺ کا مؤثر اور ایمان افروز پیغام پیش کرتی ہے۔

سبحان اللّہ 🌹

0