ہیں اسمِ محمد میں راحت کے ساماں
ہے ویران دل بھی اسی سے گلستاں
بلائے ہیں جاتے درِ جاں پہ زائر
مدینے جو پہنچے ہیں قسمت پہ نازاں
حسیں سب سے گہنہ محبت ہے اُن کی
بنے جس سے مومن جو تھا اک مسلماں
ورودِ نبی سے منور ہے ہستی
کرے یاد اُن کی دلوں کو فروزاں
ہے سیرت نبی کی سدا مشعلِ راہ
ہوئے جس سے رستے تمدن کے آساں
نہ ادراک جائے سوئے لامکاں تک
سرِ عرشِ اعظم ہیں مولا کے مہماں
مدینے پہنچ کر کریں ناز نوری
مدینے میں آ کر یہ سنتے ہیں قرآں
منور مدینہ دلوں کا سکوں ہے
اے محمود ساری یہ وادی ہے تاباں

0
1