کچھ وجہ ہے ثمر نہیں لگتا
قد میں تو کم شجر نہیں لگتا
فہم و افکار سے لگے ایسے
"کوئی اہلِ نظر نہیں لگتا"
مشکلیں تب ڈراتی جاتی ہیں
جب بھی سینہ سپر نہیں لگتا
شعر کو ناپ تول میں لائیں
وزن میں ہو بے سُر نہیں لگتا
کذب سے اجتناب ہی برتیں
حق پسندی ہو ڈر نہیں لگتا
ہر طرف ہیں نئے نئے فتنے
پُر سکوں اب نگر نہیں لگتا
خطرہ ہر گام ہی رہے ناصؔر
راحتوں کا سفر نہیں لگتا

0
24