| اپنی نظر میں قیس کا جو راستہ رہا |
| ہم کو بھی سنگ و خار ہی سے واسطہ رہا |
| ۔ |
| بوسہ ملا کسی کو نہ اس پائے ناز کا |
| ہم خاکِ راہ تھے سو ہمیں فائدہ رہا |
| ۔ |
| کوزہ گر اس لیے مری ترتیب میں ہے فرق |
| کوئی اناڑی مجھ پہ ہنر سیکھتا رہا |
| ۔ |
| ویسے تو میری زندگی سے تو نکل چکا |
| پر ڈائری میں ذکر ترا جابجا رہا |
| ۔ |
| ہوتا تھا یوں تو روز بغل گیر مجھ سے وہ |
| میلوں کا ہم میں پھر بھی مگر فاصلہ رہا |
| ۔ |
| میں نے مدثر اس کو محبت میں چھوٹ دی |
| “ رکھ کر وہ میرے سر پہ قدم بولتا رہا” |
معلومات