پاؤں ماں کے دبا رہا ہوں میں
خلد میں گھر بنا رہا ہوں میں
وہ مسلسل مجھے نہ دے آواز
کہہ دو اس کو کہ آ رہا ہوں میں
یاد ماضی کی کیوں دلاتے ہو
عادتاً روئے جا رہا ہوں میں
وعدۂ عشق اس کو یاد نہیں
سوچ کر مسکرا رہا ہوں میں
کاش ، الفت پہ وہ یقیں کرتا
جس کو غزلوں میں گا رہا ہوں میں
جب سے خود سے کیا جدا اس نے
غم کے آنسو بہا رہا ہوں میں
وقتِ ہجراں کہا تھا میں نے اسے
"تیری دنیا سے جا رہا ہوں میں"
وہ وفادار تھا!! ہوا کیا پھر ؟
یارو چھوڑو ، برا رہا ہوں میں
مثل رہبر کے ، خاکساری سے
راہ سب کو دکھا رہا ہوں میں

0
16