لبِ دار و رسن ہم نے سنی ہے اک صدا کوئی
پسِ دیوارِ زنداں بھی چلی ہے اب صبا کوئی
سکوتِ مرگ طاری ہے دیارِ کم نگاہاں میں
سلامت بچ سکی ہے کیا یہاں رسمِ بقا کوئی
بریدہ ہیں زبانیں شہرِ مقتل نوحہ خواں ٹھہرا
سنے گا حشر کے دن کیا مری زندہ نوا کوئی
عریضہ خونِ دل سے لکھ دیا ہے ہم نے قاتل کو
ہمارے بعد کاٹے گا یہاں اپنی سزا کوئی
ستم پرور نگاہوں میں عجب طنزِ تغافل ہے
چلے گا ان کے کوچے میں نئی رسمِ جفا کوئی
تری چشمِ عنایت کا عجب سحر و فسوں دیکھا
لیے پھرتی ہے ہر لمحہ نیا رنگِ ادا کوئی
جمالِ روئے جاناں سے منور ہو گیا زنداں
سرِ دارِ جنوں عاشق نے پہنی ہے ردا کوئی
جھکایا سر نہیں ہم نے کبھی ظالم کے قدموں میں
گوارا ہم کو کب تھی کوئے قاتل میں فنا کوئی
ہمارے خونِ ناحق سے کھلے گا لالہ و گل بھی
رقم ہو گی چمن میں اب نئی رسمِ وفا کوئی
سلاسل توڑ کر نکلے ہیں دیوانے سرِ مقتل
نہ روکے گا انہیں اب محتسب کا مدعا کوئی
غمِ جاناں غمِ دوراں کی تلخی گھل گئی دل میں
مرے اشکِ مسرت کا نہیں ہے خوں بہا کوئی
چھلکتے جامِ صہبا میں تمہارا عکس ہے لرزاں
نگاہِ مستِ ساقی نے پلائی ہے دوا کوئی
ستارے بجھ چکے سارے سحر ہونے کو ہے ساتھی
افق پر پہنے گی اب صبحِ نو روشن قبا کوئی
خداوندا سلامت رکھ مرے گلشن کی ہستی کو
پڑھیں گے کل مرے بچے یہاں روشن دعا کوئی
یقینِ کامل اپنا ہے کٹے گی رات ظلمت کی
گلستانِ تمنا میں چلے گی پھر ہَوا کوئی
اس المیؔر دیوانے کو اس تاریک زنداں میں
نظر آتی ہے ہر سُو اک نئی روشن ضیا کوئی

0
6