| چھپا جس کے ذروں میں مہر و قمر ہے |
| مدینہ یہ اُن کا وہ نوری نگر ہے |
| حسیں روضہ اُن کا سنہری وہ جالی |
| کہاں اعلیٰ اتنا جو لعل و گہر ہے |
| سجے دونوں عالم مدینے سے ایسے |
| یہ سینہ جہاں کا یہ جان و جگر ہے |
| درخشاں دروں ہے رواں دل سے ظلمت |
| فروزاں نبی سے فضائے دہر ہے |
| مزین جہاں کو کریں اُن کے جلوے |
| کہاں رتبہ اُن کا کہاں یہ بشر ہے |
| عطائے خدا ہے محبت نبی کی |
| مگر اولیٰ اس سے سخی کی نظر ہے |
| بلائیں گے اک دن ہمیں وہ مدینے |
| کریں گے یہ مل کر مقدس سفر ہے |
| پڑھوں نعت جب میں کرے آبدیدہ |
| اے محمود یادِ نبی میں اثر ہے |
معلومات