غرق اپنے تکبّر کی سیاہی میں ملے گا
فرعون جو لپٹی ہوئی ممّی میں ملے گا
دن چڑھتے ہی جس نے تھی بڑی دھوم مچائی
“وہ نام تمہیں شام کو ردّی میں ملے گا”
سیلابِ بلا آتے ہیں آتے ہی رہیں گے
جو نوح کا پیرو ہے وہ کشتی میں ملے گا
جو شخص زمانے کی نگاہوں میں تھا انمول
کل کس کو خبر خاک کی پستی میں ملے گا
جو خواب تری آنکھ میں روشن تھا ہمیشہ
وہ نور کی صورت ہے تجلّی میں ملے گا
ہر شخص کو مطلوب ہے شہرت کا اجالا
پر عکس تو آئینۂ ہستی میں ملے گا
تعمیرِ تعلّق میں تعقّل ہے ضروری
یہ رشتہ نہ میخانے کی مستی میں ملے گا
ہم شہرِ محبت میں وفا ڈھونڈ رہے ہیں
نایاب یہ جذبہ کہاں بستی میں ملے گا
جنگل میں بیاباں میں خدا ملتا نہیں ہے
وہ نور تو انسانوں کی نگری میں ملے گا
طارق ذرا دنیا کی حقیقت کو بھی سمجھو
کیا شاہ کسی روز نہ مٹی میں ملے گا

0
4