| تمہیں میری عداوت تو نہیں ہے |
| مرے دل میں شکایت تو نہیں ہے |
| تمہارے ہجر نے تو توڑ ڈالا |
| مگر یہ کوئی آفت تو نہیں ہے |
| تمہاری یاد کی صبحیں سنہری |
| یہ غم بھی کم عنایت تو نہیں ہے |
| تمہارے بعد بھی دل مطمئن ہے |
| مگر وہ پہلی حالت تو نہیں ہے |
| جو لمحہ تم سے ملنے کا لکھا تھا |
| یہ دنیا کی حقیقت تو نہیں ہے |
| تڑپتا رہ گیا سبدر سراپا |
| یہ درد اُس کی عطائت تو نہیں ہے |
معلومات