| جدائی کی کڑی ساعت، عجب منظر دکھاتا ہے |
| تمہارا یاد آ جانا بہت ہم کو رُلاتا ہے |
| جو دل کی آرزوؤں کو تڑپنا خود سکھاتا ہے |
| جو مٹی میں محبت کے گلستاں کو ملاتا ہے |
| جو اپنے ہاتھ سے رسمِ وفا کو توڑ دیتا ہے |
| جو اب الفت کے رشتوں کو سرِ بازار لاتا ہے |
| جو اپنے ہاتھ سے اپنی وفائیں قتل کرتا ہے |
| جو جذبے روند ڈالے اور وفا کو بھول جاتا ہے |
| جو مٹی میں محبت کی اساسیں دفن کرتا ہے |
| جو نادانی میں الفت کے محل خود ہی گراتا ہے |
| وہ جس کے واسطے ہم نے زمانے کو بھلایا تھا |
| وہی اب اجنبی بن کر ہمیں تیور دکھاتا ہے |
| محبت کی حقیقت کو بھلا وہ کیا سمجھ پائے |
| جو لمحوں میں ہی صدیوں کی رفاقت بھول جاتا ہے |
| ستارے آسماں کے بھی گواہی اس پہ دیں گے اب |
| کہ تیرا ہجر راتوں کو ہمیں کتنا جگاتا ہے |
| غمِ دوراں کے طوفاں میں سہارا بس تمہارا ہے |
| سفینہ زندگی کا اب تمہیں ساحل لگاتا ہے |
| جو تم آ جاؤ پہلو میں تو دنیا بھول جائیں ہم |
| تمہارا ساتھ ہی تنہا ہمیں جینا سکھاتا ہے |
معلومات