| اپنے قبیلے کا چنو سردار سوچ کر |
| سر پر کسی کے رکھتے ہیں دستار سوچ کر |
| وزرا کے واسطے ہیں خزانوں کے منہ کھلے |
| سرکار دے عوام کو زنگار سوچ کر |
| ہم نے کیا ہے پیار کا اظہار آپ سے |
| ٹھکرائیے گا پیار کو سو بار سوچ کر |
| دینا ہے دل تو دیکھتا ہے کیا حسب نسب |
| برباد کر نہ وقت کو بے کار سوچ کر |
| مانند برق گرتی ہے انگڑائی قلب پر |
| اس رشک ماہ کو کیجئے بیدار سوچ کر |
| اپنوں سے کٹ کے کوئی کبھی خوش نہیں رہا |
| آنگن کے بیچ کھینچنا دیوار سوچ کر |
| پردیس کی کمائی دے اپنوں سے دوریاں |
| زر کے لئے تو چھوڑنا گھر بار سوچ کر |
| خبریں مریض دل کے لئے ہیں بہت مضر |
| پڑھنا سحاب آئیندہ اخبار سوچ کر |
معلومات