سانس میں ذکرِ اَللہ رکھنا، ذکر خفی ہے اکبر هُو
اللہ نے فرمایا تب ہی تو، ذکرِ سانسِ پیمبر هُو
ذاتُ اللہ میں فنا جو کر دے، ذکرُ اللہ جو باقی کر دے
اللہ کے ہیں ذکر بہت سے، پر ہے سب سے بڑھ کر هُو
احمد کی سانسوں میں ھُو ہے، حیدر کی بھی سانس میں ھُو
کھینچے ہیں اندر کو سانسیں، بول کے سارے قلندر هُو
ذات و ضمیر کی خوب ہے بندش، جیسی ہونا ویسی ہے
سانس ہے جاتی سانس ہے آتی، اللہ باہر اندر ھُو
راز کو راز ہی رکھئے ذکیؔ کہ، مرشدِ مطلق راز ہی ہے
عشق کی دل میں تختی ٹنگا لو، لکھ لو اس کے اوپر ھُو

0
2