ذائقے کب زباں کو ڈستے ہیں
لوگ بدلیں تو زخم لگتے ہیں
یہ سمندر ہے ایک مدت کا
تم کو آنکھوں میں اشک لگتے ہیں
اب تو آتے نہیں مرے دل میں
آپ کیا گھر سے کم نکلتے ہیں
اب بھی آ دیکھو میری گلیوں میں
چاند سورج نہیں نکلتے ہیں
میرے آنسو بھی برف جیسے ہیں
دیکھیے کس طرح پگھلتے ہیں
تم نے دیکھا ہے صرف سانپوں کو
لوگ لوگوں کا دل نگلتے ہیں
سیکھ لو مجھ سے چاہتوں کا ہنر
اپنی دنیا لٹا کے چلتے ہیں
اب بھی ساگر دلِ محبت میں
کچھ چراغوں کے خواب جلتے ہیں

0
5