| ذائقے کب زباں کو ڈستے ہیں |
| لوگ بدلیں تو زخم لگتے ہیں |
| یہ سمندر ہے ایک مدت کا |
| تم کو آنکھوں میں اشک لگتے ہیں |
| اب تو آتے نہیں مرے دل میں |
| آپ کیا گھر سے کم نکلتے ہیں |
| اب بھی آ دیکھو میری گلیوں میں |
| چاند سورج نہیں نکلتے ہیں |
| میرے آنسو بھی برف جیسے ہیں |
| دیکھیے کس طرح پگھلتے ہیں |
| تم نے دیکھا ہے صرف سانپوں کو |
| لوگ لوگوں کا دل نگلتے ہیں |
| سیکھ لو مجھ سے چاہتوں کا ہنر |
| اپنی دنیا لٹا کے چلتے ہیں |
| اب بھی ساگر دلِ محبت میں |
| کچھ چراغوں کے خواب جلتے ہیں |
معلومات