خدا کے پیمبر نبی آخری
نبوت ہے جن کو ازل سے ملی
تھے انسان سارے ابھی آب و گل
مگر تھے یہ پردے میں نورِ جلی
یہی ہیں جو دولہا تھے میثاق میں
سرِ لامکاں تھی جو محفل سجی
ورود اُن کے آخر ہیں ناسوت میں
مگر صف میں اعلیٰ ہمارے نبی
ہے کافور ظلمت انہی سے سدا
ہوئی پاش جن سے یہ شیشہ گری
اسیری حقیری کریں دور یہ
دلائیں غلاموں کو یہ سروری
وہ سید وہ سرور نبی مصطفیٰ
یہ محمود کیسی حسیں دلبری

3
10
یہ اشعار عقیدۂ ختمِ نبوت، نورِ مصطفوی ﷺ، میثاقِ انبیاء، اور حضور ﷺ کی سیادتِ کائنات کے مضامین پر مشتمل ہیں۔ شاعر نے صوفیانہ اور عقیدتی زبان میں وہی مضامین بیان کیے ہیں جو قرآن، حدیث، اور اقوالِ ائمہ میں مختلف انداز سے ملتے ہیں۔ ہر شعر کی شرح اور حوالہ درج ذیل ہے:


## خدا کے پیمبر نبی آخری

## نبوت ہے جن کو ازل سے ملی

یہاں شاعر حضورِ اقدس ﷺ کے آخری نبی ہونے اور آپ ﷺ کی نبوت کے ازلی ہونے کا ذکر کرتا ہے۔

قرآن مجید میں صاف ارشاد ہے:

> “مُّحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ”

ترجمہ:
اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے آخری نبی ہیں۔

— سورۃ الاحزاب 33:40

“نبوت ازل سے ملی” کا مطلب یہ نہیں کہ ظاہری بعثت ازل میں ہوئی، بلکہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر میں آپ ﷺ کی نبوت سب سے پہلے مقدر و متعین تھی۔

حدیث شریف:

> “كنتُ نبيًّا وآدمُ بين الروحِ والجسد”

ترجمہ:
میں اُس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔

— Jami` at-Tirmidhi ، حدیث 3609
— Musnad Ahmad ibn Hanbal

ائمۂ حدیث نے اس حدیث کو فضائلِ نبوی کے باب میں نقل کیا ہے۔ اس سے مراد نبوت کا علمِ الٰہی میں مقدر ہونا ہے۔

---

## تھے انسان سارے ابھی آب و گل

## مگر تھے یہ پردے میں نورِ جلی

“آب و گل” سے مراد حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب انسان ابھی مٹی اور پانی کے مرحلے میں تھے تب بھی حضور ﷺ کا نور موجود تھا۔

یہ مضمون کئی احادیث اور آثار میں آیا ہے۔ مشہور روایت:

> “أول ما خلق الله نوري”

یہ روایت محدثین کے نزدیک سنداً قوی نہیں، لیکن اہلِ تصوف اور بعض علماء نے اسے فضائل کے باب میں ذکر کیا ہے۔

البتہ صحیح معنی میں یہ عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ ہدایت و نور کا سرچشمہ ہیں۔

قرآن:

> “قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللّٰهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ”

ترجمہ:
تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی۔

— سورۃ المائدہ 5:15

اکثر مفسرین مثلاً Imam Fakhr al-Din al-Razi اور Imam al-Qurtubi نے یہاں “نور” سے حضور ﷺ مراد لیا ہے۔

“نورِ جلی” سے مراد ظاہری جسمانی نور نہیں بلکہ نورِ ہدایت، نورِ نبوت، اور نورِ معرفت ہے۔

---

## یہی ہیں جو دولہا تھے میثاق میں

## سرِ لامکاں تھی جو محفل سجی

یہ شعر “میثاقِ انبیاء” اور واقعۂ معراج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

قرآن میں میثاقِ انبیاء:

> “وَإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ...”

— سورۃ آل عمران 3:81

اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد لیا کہ جب آخری رسول ﷺ تشریف لائیں تو اُن پر ایمان لائیں اور مدد کریں۔

شاعر نے اسی اجتماع کو “محفل” کہا ہے اور حضور ﷺ کو “دولہا” یعنی سب کے سردار و مرکز کے طور پر بیان کیا ہے۔ یہ صوفیانہ اور شعری تعبیر ہے، لفظی عقیدہ نہیں۔

“سرِ لامکاں” سے مراد معراج کی وہ بلند منزل ہے جہاں حضور ﷺ کو قربِ خاص عطا ہوا۔

حدیثِ معراج:

— Sahih al-Bukhari
— Sahih Muslim

قرآن:

> “ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۝ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنٰى”

— سورۃ النجم 53:8-9

---

## ورود اُن کے آخر ہیں ناسوت میں

## مگر صف میں اعلیٰ ہمارے نبی

“ناسوت” یعنی انسانی دنیا۔

شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں تشریف لانے کے اعتبار سے آپ ﷺ آخر میں آئے، لیکن مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بلند ہیں۔

یہ مضمون حدیث سے ثابت ہے:

> “أنا سيد ولد آدم يوم القيامة”

ترجمہ:
قیامت کے دن میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا۔

— Sahih Muslim

اسی طرح شبِ معراج میں تمام انبیاء کی امامت بھی اسی فضیلت کی علامت ہے۔

— Sahih Muslim

---

## ہے کافور ظلمت انہی سے سدا

## ہوئی پاش جن سے یہ شیشہ گری

“کافورِ ظلمت” یعنی اندھیروں کو مٹانے والے۔

قرآن میں حضور ﷺ کو چراغ فرمایا گیا:

> “وَدَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا”

— سورۃ الاحزاب 33:46

آپ ﷺ نے جہالت، شرک، ظلم، اور اخلاقی تباہی کے اندھیرے ختم کیے۔

“شیشہ گری” سے مراد دلوں کی اصلاح اور نفوس کی تربیت ہے۔ یعنی آپ ﷺ نے بکھرے ہوئے انسانوں کو سنوارا۔

قرآن:

> “وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ”

— سورۃ الجمعہ 62:2

---

## اسیری حقیری کریں دور یہ

## دلائیں غلاموں کو یہ سروری

یہاں “غلامی” سے مراد عشق و اطاعتِ رسول ﷺ ہے۔

قرآن کے مطابق حقیقی عزت اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہے:

> “وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ”

— سورۃ المنافقون 63:8

اور حدیث:

> “مَن أطاعني فقد أطاع الله”

ترجمہ:
جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی۔

— Sahih al-Bukhari

شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ کی نسبت انسان کو ذلت سے نکال کر عزت عطا کرتی ہے۔

---

## وہ سید وہ سرور نبی مصطفیٰ

## یہ محمود کیسی حسیں دلبری

“سید” یعنی سردار، “سرور” یعنی آقا۔

یہ الفاظ احادیث سے ثابت ہیں:

> “أنا سيد ولد آدم”

— Sahih Muslim

“مصطفیٰ” کا مطلب ہے “برگزیدہ” یعنی اللہ کے چنے ہوئے۔

آخری مصرعے میں شاعر اپنا تخلص “محمود” لا کر حضور ﷺ کی محبت اور حسنِ معنوی کا اظہار کرتا ہے۔ “دلبری” سے مراد ظاہری حسن ہی نہیں بلکہ اخلاق، رحمت، شفقت، اور روحانی کشش بھی ہے۔

قرآن:

> “وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ”

— سورۃ القلم 68:4

---

## مجموعی خلاصہ

اس پوری نعت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ:

* حضور ﷺ آخری نبی اور تمام انبیاء کے سردار ہیں۔
* آپ ﷺ کی نبوت اللہ کے علم میں ازل سے مقدر تھی۔
* آپ ﷺ ہدایت و نور کا سرچشمہ ہیں۔
* میثاقِ انبیاء اور معراج دونوں میں آپ ﷺ کی سیادت ظاہر ہوئی۔
* دنیا میں آخر میں تشریف لائے مگر مرتبے میں سب سے اعلیٰ ہیں۔
* آپ ﷺ نے جہالت کے اندھیرے مٹائے۔
* آپ ﷺ کی غلامی انسان کو عزت، وقار، اور روحانی بلندی عطا کرتی ہے۔

شاعر نے یہ مضامین صوفیانہ، عشقیہ، اور عقیدتی اسلوب میں بیان کیے ہیں، جن کی بنیاد قرآن، حدیث، اور اقوالِ ائمہ میں موجود ہے۔

Masha Allah

0