سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صَاف چُرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تُو نے نیند نکالی ہے
یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مَت کیسی متوالی ہے
سَونا پاس ہے سُونا بن ہے سَونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تُو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نِرالی ہے
آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی اَنگڑائی
نام پر اُٹھنے کے لڑتا ہے اُٹھنا بھی کچھ گالی ہے
ساتھی سَاتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجھلا کر سر دے پٹکوں چَل رے مولیٰ والی ہے
تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سُورج ہو
دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے
مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضاؔ سے چور پہ تیری ڈِگری تو اِقبالی ہے

0
17