| آئے قابو نہیں جو بینوں میں |
| میں نے پالے ہیں آستینوں میں |
| میں ہوں، فرہاد یا کوئی مجنوں |
| عشق ہی مشترک ہے تینوں میں |
| ہم نے انساں کا درد جانا نہیں |
| صرف دھبّہ رکھا جبینوں میں |
| اوڑھ لی خاک ہم نے آخر کار |
| رہ نہ پائے جو آبگینوں میں |
| اس میں تعمیری کام ہو جاتے |
| وقت جتنا گنوایا کینوں میں |
| آج ہم ہیں تو یہ غنیمت ہے |
| کل پھرو کھوجتے دفینوں میں |
| تم نے غیروں کی چاپلوسی کو |
| آج اپنے گنے کمینوں میں |
| سیڑھی ہم نے ہی تو بنائی تھی |
| رینگتے تم ہو جس کے زینوں میں |
| وہ ہے پکھراج بھی، زمرد بھی |
| ًہے وہ حسرتؔ الگ نگینوں میں |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۰۸ اپریل، ۲۰۲۶ |
| Rasheedhasrat199@gmail.com |
معلومات