عجیب تنہا سا میں مسافر
نجانے کب سے بھٹک رہا ہوں
ہے غائبانہ عجیب رستہ
کہیں پہ بھیتر میں بڑھ رہا ہے
اداس صبحیں اندھیری شامیں
میں ٹوٹے خوابوں کی انگلی تھامے
کوئی نہیں جو مجھے بتائے
صحیح ہے یا یہ غلط ہے رستہ
کہ رستہ ان کو نظر نہ آئے
اور میں کہ خانہ بدوش شاہد
میں ایک پل بھی ٹھہر نہ پاؤں
قدم مرے لڑکھڑا رہے ہیں
اور اشک گردِ سفر سے مل کر
کہیں پہ مژگاں پہ ٹک گئے ہیں
پرائے ہاتھوں کو کیا پڑی ہے
کہ اشک مژگاں سے صاف کر دیں
پرائے دیسوں کو کیا پڑی ہے
کہ اپنی ظالم روایتوں کے
وہ تیر کچھ دن بچا کے رکھ لیں
اب ان کے جلاد منتظر ہیں
انہیں حکم ہے کہ اب صلیبوں کے موسموں میں
رحم کو گھر پہ سلا کے آئیں
کوئی صلیبیں نہ خالی جائیں
وہ چاہے باغی ہوں یا کہ بھٹکے ہوئے مسافر
انہیں تردد کی کیا ضرورت
عجیب تنہا سا میں مسافر
مجھے تردد کی کیا ضرورت

0
3