چھوڑ کے اشک بہانہ ہم نے
پی لیا درد پرانا ہم نے
اک سجائی ہے ہنسی ہونٹوں پر
سیکھا جو غم کو چھپانا ہم نے
بھینچ کے غنچۂ دل ہاتھوں میں
گھر دیا چھوڑ ، ٹھکانا ہم نے
گر ہو ممکن تو بھلا دینا تم
جو لکھا ساتھ فسانہ ہم نے
داغ دامن کا لگا مٹ جائے
دل پہ کھایا ہے نشانہ ہم نے
ڈور سانسوں کی جڑی ہے تجھ سے
جان سے پیارے ہو جانا ہم نے
خود کو سمجھا ہے مسافر شاہد
دیکھ کے سارا زمانہ ہم نے

0
1