سوچی تھی کس نے خواب کی تعبیر اس طرح
سہنی پڑے گی ہر جگہ تحقیر اس طرح
مسمار کرکے کچے گھروندے عوام کے
اہرام ہوتے آئے ہیں تعمیر اس طرح
زخموں سے رستہ خون بھی محسوس ہو سکے
جنگوں کے باب کیجئے تحریر اس طرح
عزت دلائی خامہ بگوشوں نے ورنہ آج
قاتل نہ پاتے حرمت و توقیر اس طرح
اے صاحبان عقل و خرد سوچئے ذرا
کیوں کار گر عدو کی ہے تزویر اس طرح
بچ جائیں ان کے دام سے طفلانِ گرم جوش
میں کھینچتا ہوں ظلم کی تصویر اس طرح

0
1