| یوں نہ دیکھو مجھے۔۔۔ |
| جیسے میرے ہاتھوں سے |
| کوئی بہت قیمتی آبگینہ چھوٹ گیا ہو۔ |
| ہاں، |
| میں نے برسوں تمہاری سانسوں کی لو سے |
| اپنے کمرے کا اندھیرا کاٹا ہے |
| تمہاری باتوں کی نرم تہہ میں |
| کتنی ہی سرد اور بے اماں راتیں گزاری ہیں۔ |
| میری ہر سوچ کی پگڈنڈی پر |
| تمہارے ہی قدموں کے نشان تھے۔۔۔ |
| یہ سچ ہے۔ |
| پر آج۔۔۔ |
| آج میرے سینے کی بوسیدہ دیواروں پر |
| کچھ اور سائے رینگ رہے ہیں۔ |
| تمہیں یاد ہے ہم نے |
| اپنے حصے کی خوشیوں سے |
| ایک چھوٹا سا، کچا سا گھر بنایا تھا |
| آج اس کی دیواریں سرک رہی ہیں۔ |
| مجھے معاف کر دینا۔۔۔ |
| آج میرے پاس تمہاری زلفوں کے سائے میں |
| چھپنے کی گنجائش نہیں ہے۔ |
| باہر سڑک پر |
| ان لوگوں کی بھیڑ ہے |
| جن کے چہروں پر وقت نے |
| جلی ہوئی روٹیوں کی کالک مل دی ہے |
| جن کی آنکھوں کی پتلیوں میں |
| مستقبل کسی پرانی، گندی چادر کی طرح |
| لپٹا ہوا ہے۔ |
| جب میں تمہاری مخملی ہتھیلیوں کو چھوتا ہوں تو۔۔۔ |
| مجھے ان کے کھردرے، کٹے ہوئے ہاتھ |
| اپنی گردن پر چبھتے محسوس ہوتے ہیں۔ |
| ان لمحوں کا خمیر کیا ہے |
| جو ہم اکیلے میں ہنس کر گزارتے ہیں؟ |
| شاید ان کے پیچھے۔۔۔ |
| بہت سے گونگے لوگوں کی |
| ان سنی چیخیں چنی ہوئی ہیں۔ |
| آج مجھے اپنی ذات کے خول سے |
| باہر کھڑا رہنے دو |
| میری خاموشی کو آج نوحہ بننے دو |
| میرے چہرے پر جمی یہ راکھ |
| آج مت جھاڑنا۔۔۔ |
| آج کی رات |
| میرے سرہانے کوئی گلاب نہ رکھنا۔۔۔ |
| میری آنکھوں کی پتلیوں میں |
| کچھ اڑتی ہوئی دھول جم گئی ہے |
| اور اس دھول میں، |
| محبت کے خدوخال۔۔۔ |
| بہت دھندلے ہیں۔ |
معلومات