| راس جب آیا نہ کچھ دل کو دیارِ یار میں |
| پھر بھلا جائیں کہاں اس نا رسا سنسار میں |
| زندگی بے کیف سی لگنے لگی ہے آج کل |
| گم ہوا ہے چین سارا ہجر کے آزار میں |
| تاکہ حاصل ہو مسرت، بات بھی بگڑے نہیں |
| جھوٹ کا لینا پڑا اکثر سہارا پیار میں |
| آپ کے دیدار کو ہر گز قضا کرتا نہیں |
| ہے نمازوں کی سی لذت آپ کے دیدار میں |
| ہنس کے ملتا ہوں میں لوگوں سے بظاہر آج بھی |
| کون جانے دردِ پنہاں شوخیِ گفتار میں |
| اب دمِ آخر ہے، حسرت ہے کہ ہو دیدار یار |
| اور کچھ حسرت نہیں ہے اس دلِ بیمار میں |
| کب وہ آۓ، کب بجھے یہ آگ فرقت کی تقیؔ |
| موم کی صورت پگھلتا ہوں میں ہجرِ یار میں |
معلومات