کیا یادِ مدینہ ہے سینے میں سجانے دو
لمحات میں فرقت کے کچھ اشک بہانے دو
پامال ہیں سب یادیں اک یادِ مدینہ سے
جو راز ہے دل بستہ لوگوں سے چھپانے دو
سینے میں ضیا کر دیں انوار درودوں کے
جو نامِ محمد ہے سینے سے لگانے دو
ناکارہ ہوں مجرم میں گھیرا ہے گناہوں کا
اب نام سے دلبر کے یہ حُزن مٹانے دو
دے گھر تو مجھے مولا سرکار کے کوچے میں
اے بادلو ہٹ جاؤ فریاد کو جانے دو
روکے نہ قدم میرے دنیا میں یہ دشواری
جانا ہے درِ جاں پر بس خیر سے جانے دو
دلبر سے ملی خوشیاں ہم دیگیں پکاتے ہیں
سرکار سے جو آئے وہ ناز سے کھانے دو
محمود ہے کہہ دیتا جو بات ضروری ہے
اِن کردہ خطاؤں پر اب آنسو بہانے دو

0
1