بچھڑا تھا اپنے آپ سے خود سے ملا مجھے
بُھولا ہوں خود کو کون ہوں آخر بتا مجھے
پاگل سمجھ رہے ہیں مجھے گھر کے لوگ کیوں
اب کس سے جا کے پوچھوں کہ کیا ہو گیا مجھے
ہر بار گِر کے خود کو اٹھاتا رہا ہوں میں
اس بار یوں گِرا ہوں کہ تو ہی اٹھا مجھے
لوگوں کے راستے کی رکاوٹ میں بن گیا
اٹھنا نہیں لکھا تو یہاں سے ہٹا مجھے
وہ بھی انا پرست تھا چُپ چاب مڑ گیا
صدمہ یہی ہے آخری دیتا صدا مجھے
شاہدؔ انا کو مارنے میں عمر کٹ گئی
شہرِ انا پرست میں لوٹا انا مجھے

0
1