| مجھے تو مدحِ نبیؐ بے حساب کرنی ہے |
| ہر ایک سانس ہی نذرِ جناب کرنی ہے |
| درودِ پاک سے دھونی ہے تیرگی دل کی |
| چراغِ عشق سے دنیا گلاب کرنی ہے |
| حضورؐ! آپ کی سیرت ہے آفتابِ حیات |
| اسی سے زیست مجھے کامیاب کرنی ہے |
| جو آپؐ کے درِ اقدس سے دور بیٹھے ہیں |
| انہیں بھی پیش خدا کی کتاب کرنی ہے |
| نہ مال و زر کی طلب ہے، نہ شہرتوں کی ہوس |
| نہ مدح مجھ کو بہ غرضِ ثواب کرنی ہے |
| مرے سوال پہ رحمت کا ابر چھا جائے |
| یہ التجا ہی بصد اضطراب کرنی ہے |
| حیاتِ نو کا سلیقہ جہاں کو سکھلانے |
| مجھے تو سیرتِ آقا ، نصاب کرنی ہے |
| کرم کی آس لیے پڑھ رہا درود ہوں میں |
| مجھے بھی اپنی دعا مستجاب کرنی ہے |
| نبیؐ کے ذکر سے ملتا ہے دل کو چین و قرار |
| اسی کو صلّ علٰی انتساب کرنی ہے |
| خدا کرے کہ مدینے میں حاضری ہو نصیب |
| یہ آرزو مجھے رب سے شتاب کرنی ہے |
| گناہ گار ہوں، دامن میں کچھ نہیں میرے |
| یہ نعت پیش حضورِ جناب کرنی ہے |
| رہی ہے آرزو طارقؔ، مری ہمیشہ سے |
| حضورؐ ہی کی ثنا بے حساب کرنی ہے |
معلومات