شہر میں جب نہ مسیحا ہو گا
پھر نہ بستی میں تماشا ہو گا
چوٹ کا ہو گا نہ مرہم کوئی
زخم ملموں سے ہی اچھا ہو گا
دل کے دورے پہ پئیں گے قطرے
ہر پیا قطرہ ہی میٹھا ہو گا
درد ہو گا نہ شکایت جگ میں
گولی ، ٹیکے کا نہ چرچا ہو گا
دکھ سے تڑپے گا نہ اپنا یارو
سی ٹی ہو گا نہ ہی چھاپا ہو گا
بس سکوں ہو گا گلی ، نکڑ پر
گھر کی چوکھٹ پہ ہی بچہ ہو گا
ہو گا سانجھا یوں عطائی سب کا
تھانے ہوں گے نہ ہی پرچا ہو گا
شب کو اٹھ کے نہ پڑھے گا طالب
بل نہ بجلی کا ہی خرچا ہو گا
بند ہو جائیں گے کالج سارے
اک ستر سب کا یوں کچھا ہو گا
ساتھ اک سکھ کے جئے گا آدم
شادماں شہر یہ ہنستا ہو گا
جھوٹ بلوائے نہ مرشد شاہد
ڈر ، کچہری ، نہ تقاضا ہو گا

0
2