فلک کے تاروں سے پوچھا ہے رات بھر میں نے
کِیا تمھارے بھروسے پہ کیا سفر میں نے
وہ ایک شخص جو خود سے بھی دور ہوتا گیا
اسی کو ڈھونڈ لیا آخرِ نظر میں نے
ہوا کے ساتھ بہت دور تک گیا لیکن
چراغ رکھ دیا پھر بھی اسی نگر میں نے
مجھے جہان کی پروا بھی ہو بھلا کیسے
کسی کی گود میں جب رکھ دیا ہے سر میں نے
جو میرے عہد کے لوگوں تلک نہیں پہنچا
وہ حرف لکھ کے قلم کب ہے دھر دیا میں نے
جو خود کو دیکھا ہے میں نے تو وہ نظر آیا
چھپا کے رکھّا تھا اک شہر اپنے گھر میں نے
جہاں پہ لوگ محبت کو ڈھونڈتے تھے بہت
وہیں سکون کا کھولا ہے ایک در میں نے
کہاں ہے خواب کی تعبیر دور اب طارق
ٹھکانہ اب تو بنا لی ہے رہگزر میں نے

0
6