شہر محبوب با چشم تر دیکھنے
جالیوں کو جھکا کر نظر دیکھنے
گنبدِ نور کے سایہِ نور میں
نعت پڑھنے کا لطف و اثر دیکھنے
روک لیتے ہیں سانسیں یہاں اولیاء
عشق میں یہ بھی نقطہ نظر دیکھنے
نور ہی نور ہے شہر محبوب میں
دل کی آنکھوں سے یارو جدھر دیکھئے
شہر جاناں میں جان اپنی چھوڑ آۓ ہیں
تیرے عاشق اے جانِ خضر دیکھنے
یہ عتیق آپ کا ہی ثنا گر رہے
اک نظر پیارے آقا ادھر دیکھنے

0
11