مجھ کو چمن میں آئیں نظر دو سہیلیاں
الجھی ہوئی ہیں ذہن میں اب تک پہیلیاں
ایسا لگا کہ شاخ پہ دو پھول ہیں کھلے
وہ نرگسِ بہار تھیں یا تھیں گلابیاں
اک شوخ سی لگے ہے تو اک ہے حیا بھری
پہنچی ہوئی عروج کو ان کی جوانیاں
دونوں کی گفتگو میں ہے جادو چھپا ہوا
تھی سادگی میں ان کی تو پنہاں کہانیاں
کس کو بساؤں دل میں کسے آشنا کہوں
اٹکا ہوا ہے دل انہی باتوں کے درمیاں
دیکھا انہیں تو سکتے میں تھا آ گیا جلال
نکلیں نہ رعبِ حسن سے پھر اس کی سسکیاں

0
1