| ہماری آنکھ بھی یوسف سا چاہے معجزہ، سمجھے |
| مگر کوئی نہیں ملتا جو اپنا مسئلہ سمجھے |
| چھپا رکھی ہے خاموشی کے پیچھے جو صدا سمجھے |
| کبھی تو یار ظاہر سے حقیقت کو سوا سمجھے |
| ہمیں تم اک نظر تکتے نہیں، اوروں پہ لطفِ عام |
| کہو تم ہی وفا سمجھے کہ دل اس کو جفا سمجھے؟ |
| فلک کو چاندنی شب میں جو دیکھا، اے سفیرِ نور! |
| ستاروں کو تمھاری راہ کا ہم نقشِ پا سمجھے |
| گلے میں تیرے جب دیکھی ہے اسمِ غیر کی مالا |
| جو بیتی ہم پہ، ہے معلوم ہم کو غیر کیا سمجھے |
| نچھاور کر کے جان و مال تیرے نقشِ پا پر ہم |
| جنونِ عشق میں برباد ہونے کا مزا سمجھے |
| عروضی گھنگرو نظم و غزل کو ہم نے پہنایا |
| سخن کو بحر کی دھن پر نچانے کا مزا سمجھے |
معلومات