گردشِ چاک سے اتارا ہوں
وقت کی دھوپ کا نکھارا ہوں
زندہ ہوں میں تری صلیبوں پر
لشکری گو کہ ایک ہارا ہوں
کانچ کی آنکھیں ، جسم پتھر کا
جگ کو ایسا بھی کب گوارا ہوں
تھا بھٹکتا ہوا مسافر میں
تم مگر کہتے تھے ستارا ہوں
میں گیا ڈوب ، ڈھونڈتے خود کو
میں سمجھتا تھا ، میں کنارا ہوں
بھول جا زندگی ، مجھے تو بھی
میں کسی شام کا نظارا ہوں
رشتہ شاہد ہے ، ہر ضرورت کا
اور ضرورت میں، بس تمہارا ہوں

0
3