عشقِ حبیبِ رب کی دولت ملے مجھے
ذکرِ کریم میں ہی راحت ملے مجھے
آنے کو چاہے یہ دل دارِ رسول پر
سرکار کے کرم سے ہمت ملے مجھے
نغماتِ دلربا سے سینہ سجا رہے
ہر کارِ خیر کی بھی طاقت ملے مجھے
بردہ حبیبِ سرور عاجز رہے سدا
مجلس میں حاضری کی نعمت ملے مجھے
بارِ دگر میں دیکھوں روضہ حبیب کا
یہ بار بار مولا لذت ملے مجھے
دے گھر کریم داتا شہرِ حبیب میں
کوئی سکونِ دل کی صورت ملے مجھے
محمود دل سے اپنے نکلے یہی دعا
بابِ نبی پہ دائم راحت ملے مجھے

0
2