بچھڑ کر روح سے جب جسم بے جاں چھوڑ جاتے ہیں
بہت جلد اپنے بھی کتنا پشیماں چھوڑ جاتے ہیں
ذرا سی دیر دھڑکن دل کی رہتی ہے گواہی پر
سو وہ بھی رفتہ رفتہ ضبط امکاں چھوڑ جاتے ہیں
دماغ و فکر بھی کچھ دیر تک بیدار رہتے ہیں
پھر اپنے سوچنے کے سب دبستاں چھوڑ جاتے ہیں
کھلی رہتی ہیں آنکھیں دیکھنے کو چار گھنٹوں تک
مگر اپنے یہاں کیا کیا نہ عنواں چھوڑ جاتے ہیں
کہ جن کی چاہ میں برباد کی تھی زندگی اپنی
وہی لاشے کو جلدی سے پریشاں چھوڑ جاتے ہیں
تقاضے مال کے، بستر کی فکریں، بانٹنا کپڑے
وہ چہروں پر عجب بے درد ارماں چھوڑ جاتے ہیں
جو ان گھنٹوں میں آنکھیں بے وفا اپنوں کو تکتی ہیں
تو پھر مردے بھی دنیا سے گریباں چھوڑ جاتے ہیں
وہ منظر دیکھ کر دل کو سکوں تب موت دیتی ہے
کہ جیسے لوگ اک بستی کو ویراں چھوڑ جاتے ہیں
خوشی سے موت کی آغوش میں سو جائیں گے عادلؔ
جہاں میں لوگ جب ایسا اک احساں چھوڑ جاتے ہیں

0
1