دل میں اب تک وہی اک خوابِ سفر باقی ہے
رات گو بھیگی رہی شوقِ سحر باقی ہے
وقت نے چھین لیے شہر رفیق اور رستے
پھر بھی اک شخص مرے دل میں مگر باقی ہے
ہم نے ہر دور کے چہرے کو بدلتے دیکھا
آدمی میں ابھی انسان کا ڈر باقی ہے
جس نے بازار میں سچ بولنے کی جرأت کی
ہر کسی دَور میں وہ عالی نظر باقی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اب عشق تو ناپید ہوا
ہم کو لگتا ہے ابھی عشق کا در باقی ہے
میں نے مٹّی ہی سے امّید کا رشتہ رکھا
اس لیے مجھ میں ابھی شوقِ شجر باقی ہے
جس کو منزل کی لگن ہو وہ ٹھہر سکتا نہیں
پاؤں زخمی ہوں تو کیا عزمِ سفر باقی ہے
کتنے طوفان گزر جائیں نہیں ڈوبے گا
دل میں گر حوصلہ ہے سوزِ جگر باقی ہے
طارِق اس شہر میں خاموش ہیں گو
پھر بھی سچ کہنے کو وہ ایک بشر باقی ہے

0
4