یہ تیغ کا نہیں کردار کا اُجالا تھا
ہر ایک غزوہ حقیقت میں درس اعلیٰ تھا
جہاد بھی تھا مگر رحم کی رفاقت میں
ہر اک قدم پہ کرم امن کا اجالا تھا
کبھی نہ ظلم کو تائید آپ نے بخشی
عدالتوں کو بھی میزان سے سنبھالا تھا
لڑے تو حق کی حفاظت میں سارے اہلِ وفا
نہ انتقام نہ کینہ ہی دل میں پالا تھا
حصولِ فتح پر بھی سر جھکا تھا سجدے میں
غرورِ فتح کو دامن سے یوں نکالا تھا
عدو بھی سامنے آیا تو یہ صدا آئی
نہ قتل طفل کا ، نَے زن کا ہونے والا تھا
جلانا کھیت نہ باغات کاٹنا کوئی
امانتوں کا تحفظ بھی حکمِ بالا تھا
اسیرِ جنگ کو بھی آپ نے دیا یہ حق
رہے گا عزتوں سے حق دیا نرالا تھا
غذا بھی دی انہیں زخموں کو آ کے خود دیکھا
کرم کی چھاؤں سے دشمن کو بھی سنبھالا تھا
اُحد کے دن بھی لہو سے جب آستیں تر تھیں
لبوں پہ پھر بھی دعا کا ہی جیسے پیالہ تھا
“خدایا بخش دے اس قوم کو نہ جانیں یہ”
کہ ظلم نے بھی غضب کو نہیں ابالا تھا
حنین بدر تھی خندق یا مکّہ کا منظر
ہر ایک باب میں اخلاق کا حوالہ تھا
کسی سے بغض نہیں سب کے واسطے رحمت
یہی پیامِ محمدؐ ، دعاؤں والا تھا
جہاں میں امن کی بنیاد آپ نے رکھی
عداوتوں کا کِیا ہر طرح ازالہ تھا
درود آپ پہ بھیجوں ہیں آپ وہ ہستی
کہ پستیوں سے مری زیست کو اچھالا تھا

0
7