| جو کبھی تھا مثلِ گلشن ، وہ ہوا ہے راغ کیسے ؟ |
| گلِ عشق پر اے سامیؔ ! یہ لگا ہے داغ کیسے ؟ |
| وہ جو شمعِ آرزو تھی دلِ شیفتہ میں روشن |
| سرِ راہِ کوئے جاناں وہ بجھا چراغ کیسے ؟ |
| جو کبھی تھا مثلِ گلشن ، وہ ہوا ہے راغ کیسے ؟ |
| گلِ عشق پر اے سامیؔ ! یہ لگا ہے داغ کیسے ؟ |
| وہ جو شمعِ آرزو تھی دلِ شیفتہ میں روشن |
| سرِ راہِ کوئے جاناں وہ بجھا چراغ کیسے ؟ |
معلومات