| اسکی نظر کا بس اک اشارہ بہت ہے |
| ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بہت ہے |
| حال بھی اب پوچھتا نہیں کبھی میرا |
| ہاۓ وہ اک شخص جو ہمارا بہت ہے |
| نام تو ہوتا ہے عشق عاشقی میں خوب |
| ہاں مگر اس کام میں خسارہ بہت ہے |
| چل مرے ساتھ اے حسین شخص کہیں اور |
| کھیل میں دل کے تو نے بھی ہارا بہت ہے |
| یوں ہی نہیں ہو گیا میں کم سخن اتنا |
| اس نے مجھے شیشے میں اتارہ بہت ہے |
| اشک نہ کر ضائع اے ستاۓ ہوۓ شخص |
| آنکھیں سلامت ہوں تو نظارہ بہت ہے |
| ایک تبسم اک آدھ بوسہ ذرا پیار |
| اتنے میں ہو جاۓ گا گزارہ بہت ہے |
| زر ترے سیمیں بدن سے قرض لے لے کر |
| اپنی غزل کو میں نے نکھارا بہت ہے |
معلومات