| نعت سرکارِ دو عالم ﷺ سے محبت ہو گئی |
| میرے مولا کی بڑی مجھ پر عنایت ہو گئی |
| ذکرِ سلطانِ مدینہ ﷺ جب زباں پر آ گیا |
| روح کو جیسے میسر کوئی راحت ہو گئی |
| میں گناہوں کی گھٹاؤں میں بھٹکتا ہی رہا |
| ان کی مدحت کی بدولت ہی ہدایت ہو گئی |
| اپنی پلکوں پر سجایا جب خیالِ مصطفی ﷺ |
| میرے اشکوں کی بھی گویا اک عبادت ہو گئی |
| میں نے جب نعتِ محمد ﷺ کو وظیفہ کر لیا |
| میری سوچوں میں عجب سی پھر لطافت ہو گئی |
| رکھ دیا سر میں نے اپنا ان کے پیارے قدموں پر |
| دل کی دنیا میں سکوں کی اک حکومت ہو گئی |
| اپنے آقا ﷺ کی غلامی پر بڑا ہی ناز ہے |
| ساری دنیا کی بلندی بے حقیقت ہو گئی |
| نعت لکھنا بھی کہاں میرے ہنر میں تھا عتیقؔ |
| یہ تو مجھ پر خاص ان کی نظرِ شفقت ہو گئی |
معلومات