تیری آواز کا جادو ہے کہ دم بھر کے لیے
جھلملاتا ہے کوئی دور کی بستی میں چراغ
خود فراموش سے لغزش بھی یہی ہوتی ہے
اجنبی راہ پہ وہ ڈھونڈنے جاتا ہے سراغ
وہ ہے اپنوں میں بھلا آج اسے کیسی غرض
تیری مہماں کی خبر دیتی ہوئی سر میں اے زاغ
بھید رہنے نہیں دیتا کبھی تازہ جھونکا
اس کے آنے سے چمکتا ہے مرے دل کا داغ
گل کا کھلنا ترے آنے کا پتہ کیا دے گا
تیرے آنے سے تو کھل جاتا ہے یہ سارا باغ

0
1
167
نقاد اور شعراء احباب کی رائے کا پیشگی شکریہ

0