| وہ زخمِ تمنا کو چھپائے ہوئے لوگ |
| خاموشی کا طوفان اٹھائے ہوئے لوگ |
| پھر لوٹ کے آئے نہ کسی حال میں وہ |
| اک بار جو نظروں سے گرائے ہوئے لوگ |
| ہر سانس میں اب زہرِ جدائی ہے بھرا |
| ہم پیار کی شمعوں سے جلائے ہوئے لوگ |
| پہچان نہیں پاتے اب اپنی بھی شبیہ |
| آئینہ مروت کا دکھائے ہوئے لوگ |
| وہ قہقہے اب بن گئے آنکھوں کی نمی |
| خوشبو کی طرح جی میں بسائے ہوئے لوگ |
| منزل کی طلب میں جو بھٹکتے ہی رہے |
| رستوں کی تھکن دل میں چھپائے ہوئے لوگ |
| وہ جس کی عدالت میں کبھی ہارے تھے ہم |
| پھرتے ہیں عادل وہی پائے ہوئے لوگ |
معلومات