| ہر محبت میں مروّت ہو ضروری تو نہیں |
| عشق میں لفظوں کی حاجت ہو ضروری تو نہیں |
| دل تو چپ چاپ کسی کو بھی بنا لے اپنا |
| ہر تعلق میں وضاحت ہو ضروری تو نہیں |
| وہ مرے پاس نہیں، پھر بھی مرے ساتھ تو ہے |
| ہر محبت میں رفاقت ہو ضروری تو نہیں |
| جس کو محسوس کیا، اس کو پکارا جائے |
| ہر حقیقت کی شہادت ہو ضروری تو نہیں |
| آنکھ خاموش ہو، دل بات سمجھ لیتا ہے |
| ہر نظر میں کوئی حیرت ہو ضروری تو نہیں |
| ہجرتیں عشق میں آتی ہیں یہی سنّت ہے |
| ہر جدائی پہ ندامت ہو ضروری تو نہیں |
| دل اگر صاف ہو نیّت بھی جو پاکیزہ ہو |
| ہر دعا لفظ کی صورت ہو ضروری تو نہیں |
| ہم نے دیکھا ہے کئی لوگ تھے اپنوں جیسے |
| ہر شناسا سے رفاقت ہو ضروری تو نہیں |
| جانِ من، جان ، جگر کچھ بھی پکارا جائے |
| “ نام لینے کی بھی عادت ہو ضروری تو نہیں “ |
| کچھ تعلّق ہوں فقط روح سے قائم طارِقؔ |
| جسم کی جسم سے قربت ہو ضروری تو نہیں |
معلومات