رخصت کے لئے راستہ تک چھوڑ چکے ہیں
دو چار قدم ہم بھی ترے ساتھ چلے ہیں
یادوں کے سہارے بھی جی لینگے ہمیں کیا
مجبور جو ہجراں میں زیادہ ہو گئے ہیں
کیسے مزہ آئے بھی یہاں آپ نہ گر ہوں
درپیش بہت مسئلہ سنگین رہے ہیں
ہرگز کبھی رہتا نہیں شکوہ بھی لبوں پر
بس صبر کو ہی درد کا درماں جو کئے ہیں
اپنی کسی خوش بختی پہ نازاں تو ہے ناصؔر
ایسا ہو کہ حاسد جو تمہارے ہوں، جلے ہیں

0
26