زمانہ بہت تیز چلتا رہا ہے
بظاہر تو آگے ہی بڑھتا رہا ہے
وہی شخص دنیا کو روشن کرے گا
جو اپنے اندھیروں سے لڑتا رہا ہے
جسے سامنا تھا سدا آئنے کا
وہی شخص ہر دم سنورتا رہا ہے
چلا ہے جو پائے گا آخر کو منزل
یہ مانا وہ گر کر سنبھلتا رہا ہے
لڑاتا ہے جو آنکھ طوفاں سے ہر دم
وہی ساحلوں پر اترتا رہا ہے
جسے لوگ سمجھیں کہ ٹوٹا ہے شاید
وہ اندر ہی اندر نکھرتا رہا ہے
وہی خواب آخر حقیقت بنے گا
جو آنکھوں میں شب بھر چمکتا رہا ہے
وہی نام جگمگ ستارہ بنے گا
فلک جس کو سینے پہ جڑتا رہا ہے
چراغِ وفا بجھ نہ پایا ہَوا سے
کہ دل میں محبّت سے جلتا رہا ہے
گھرا دشمنوں میں جو سچ کہہ رہا تھا
وہی تو زمانے کو پڑھتا رہا ہے
زمانہ بدل جائے یہ لاکھ طارق
کہاں عشق ہونے سے ٹلتا رہا ہے

0
8