یہی جانِ ہستی ہیں مولا کے پیارے
جو محبوبِ داور ہیں دلبر ہمارے
نہیں کل جہانوں میں ثانی نبی کا
کمال اُن کو سارے ملے ہیں نیارے
جہاں پر عطائے نبی کا ہے سایہ
عُلیٰ اُن کے درجے خلق میں ہیں سارے
جہانوں کو ظلمت نے گھیرا ہوا تھا
حجابوں میں بیٹھے تھے اکثر نظارے
لئے شمع نوری جو آئے وہ دلبر
کئے ماند اُس نے مہر چاند تارے
تلاطم دہر کے سکوں یاب اس سے
نظر اہلِ طوفاں کو آئے کنارے
ہے ممنون ہستی یہ محمود اُن کی
ملے جن سے کونین کو یہ سہارے

0
1