| ہوا جو ختم مرا سیم و زر گئے احباب |
| اسی سبب مرے دل سے اتر گئے احباب |
| ۔ |
| یوں کاٹ دی مری شہ رگ مجھے خبر نہ ہوئی |
| بڑے ہنر سے مرا قتل کر گئے احباب |
| ۔ |
| کبھی تھا وقت کہ تھی دوستی عزیز از جاں |
| گزر گئی وہ صدی ، وہ گزر گئے احباب |
| ۔ |
| انھیں نکال دو دل سے ، رکھو نہ سوچ میں بھی |
| مدثر ایسے ہی سمجھو کہ مر گئے احباب |
معلومات