ہوا جو ختم مرا سیم و زر گئے احباب
اسی سبب مرے دل سے اتر گئے احباب
۔
یوں کاٹ دی مری شہ رگ مجھے خبر نہ ہوئی
بڑے ہنر سے مرا قتل کر گئے احباب
۔
کبھی تھا وقت کہ تھی دوستی عزیز از جاں
گزر گئی وہ صدی ، وہ گزر گئے احباب
۔
انھیں نکال دو دل سے ، رکھو نہ سوچ میں بھی
مدثر ایسے ہی سمجھو کہ مر گئے احباب

0
48