| اس کے بغیر زندگی اچھی گزر گئی |
| اتنا ہوا کہ دل سے یہ دنیا اتر گئی |
| قسمت میں ساتھ اس کا نہیں تھا نہیں ملا |
| مَنت، نیاز اور دعا بے اثر گئی |
| عشاق لگ گئے سبھی دولت کی دوڑ میں |
| مجنوں کے انتظار میں لیلیٰ ہی مر گئی |
| غفلت کی نیند آپ کی ٹوٹی نہیں ہے کیوں |
| آوازِ جرس دہر کو بیدار کر گئی |
| تیرے سوا کہیں سے محبت نہیں ملی |
| بن کر فقیر آنکھ مری در بدر گئی |
| کل بزم عاشقاں میں نظارہ تمہی تو تھے |
| تم کو ہی دیکھتا تھا وہ جس پر نظر گئی |
| اب آ گیا ہے چھوڑ کے سب کو ہی یار وہ |
| اتنے میں اپنی وصل کی چاہت ہی مر گئی |
معلومات