کسی نے وقت کو مٹّی میں کیا اُتارا ہے
ہر ایک لمحہ جو ہاتھ آیا استعارہ ہے
میں اپنے نام کے معنی تلاش کرتا ہوں
مرے وجود میں کیا کیا چھُپا اشارہ ہے
جو ایک شخص مرے دل سے جا نہیں پایا
اسی نے روح کے ہر زخم کو سنوارا ہے
نہ کوئی نقش مکمل، نہ کوئی حرف تمام
کتابِ زندگی کو کس نے یوں اتارا ہے
ہوا کے ہاتھ میں خوشبو کی تھی کوئی تحریر
ہر ایک پھول نے پڑھ کر چمن سنوارا ہے
میں اپنے آپ سے باہر نکل کے یہ سمجھا
ہر ایک شخص مرے دردِ دل کا چارہ ہے
جو آئینہ تھا، وہ چہروں کو کیا دکھاتا بھلا
ہر ایک آنکھ نے خود کو ہی پھر نکھارا ہے
عجیب لوگ ہیں، سایوں کے تھے تعاقب میں
کسی نے دھوپ کو سینے سے کب گزارا ہے؟
ہے مجھ پہ نام نے طارِقؔ مرے اثر ڈالا
مرے وجود میں ہی صبح کا ستارہ ہے

0
9