| اِک صنوبر کے سرد جنگل میں |
| دھندلی رات، کھو گئے ہیں ہم |
| اپنے ہی دل کے دشتِ امکاں میں |
| ڈھونڈتے ذات، کھو گئے ہیں ہم |
| خزاں کے پیلے پیلے پتوں سے |
| کرتے اک بات، کھو گئے ہیں ہم |
| عمر کے بے کراں سمندر میں |
| موجوں کے ساتھ، کھو گئے ہیں ہم |
| وقت کے برف زار میں چپ چاپ |
| چھوڑ کر ہاتھ، کھو گئے ہیں ہم |
| خامشی کی اداس گھاٹی میں |
| گنتے لمحات، کھو گئے ہیں ہم |
معلومات